جب ٹیکنالوجی کی دنیا ڈیسک ٹاپ سے سمارٹ فونز پر منتقل ہوئی تو اشتہاری کمپنیوں کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہو گیا۔ روايتی ویب کوکیز موبائل ایپس کی بند دنیا میں کام کرنے سے قاصر تھیں، جس کے نتیجے میں موبائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ایپل کے IDFA اور گوگل کے GAID نے ڈیسک ٹاپ کوکیز کی جگہ لے کر اشتہار کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس تبدیلی نے جہاں اشتہار دہندگان کو صارف کی ترجیحات جاننے کا نیا طریقہ دیا، وہیں پرائیویسی اور پلیٹ فارم کنٹرول کی ایک نئی جنگ بھی چھیڑ دی۔
ویب براؤزر کی حد تک براؤزر کوکیز صارف کی سرگرمیوں کو یاد رکھنے کا بہترین ذریعہ تھیں۔ لیکن جیسے ہی دنیا نے سمارٹ فونز کو اپنایا، صارفین کا زیادہ تر وقت ویب سائٹس کی بجائے موبائل ایپس میں گزرنے لگا۔ ایپس ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک ایپ کے اندر کی جانے والی سرگرمیوں کو دوسری ایپ میں ٹریک کرنا روایتی کوکیز کے بس کی بات نہیں رہی۔ اس تکنیکی رکاوٹ نے اشتہاری انڈسٹری کو ایک بحران سے دوچار کر دیا۔
اس چیلنج کا حل نکالنے کے لیے ایپل اور گوگل نے اپنے اپنے موبائل آپریٹنگ سسٹمز میں شناختی کوڈز شامل کیے:
موبائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی نے سمارٹ فونز پر اشتہارات کی درستگی اور قیمت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
وقت کے ساتھ، ان آئی ڈیز کے استعمال نے پرائیویسی کے شدید خدشات کو جنم دیا۔ صارفین کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کا ڈیٹا کس حد تک شیئر ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں ایپل نے پہل کی اور 'ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی' (ATT) متعارف کرائی، جس کے تحت صارفین کو خود یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا کہ وہ ایپس کو ٹریکنگ کی اجازت دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اس اقدام سے اشتہاری انڈسٹری بالخصوص میٹا جیسے اداروں کو شدید مالی धक्का لگا۔ دوسری جانب گوگل بھی اینڈرائیڈ پر پرائیویسی کنٹرولز کو سخت کر رہا ہے۔
آج موبائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرائیویسی اور کمرشل مفادات آمنے سامنے ہیں۔ سیکیورٹی اور پرائیویسی کے نئے قوانین کے بعد ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے طریقے بدل رہے ہیں، اور کمپنیاں اب بغیر صارف کی رضامندی کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کی جگہ جدید اور پرائیویسی کو محفوظ رکھنے والی ٹیکنالوجیز پر کام جاری ہے۔
کیا آپ اپنے فون میں ایپس کو ٹریکنگ کی اجازت دیتے ہیں یا پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہیں؟ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں ضرور شیئر کریں!









